ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی میں ابھی2,265کروڑ روپئے جائیداد محصول کی وصولی باقی

بی بی ایم پی میں ابھی2,265کروڑ روپئے جائیداد محصول کی وصولی باقی

Mon, 02 Apr 2018 10:21:34    S.O. News Service

بنگلورو یکم اپریل (ایس او نیوز) آج اقتصادی سال کا آخری دن ہے ، اور یہ سال اختتام کو پہنچ رہا ہے ، اور بروہت بنگلورومہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) نے اس پورے سال کے دوران جائیدا محصول کے ضمن میں تقریباً 2,100 کروڑ روپئے وصول ( بعض معاملات میں سابقہ بقایاجات کو شامل کر کے)، واضح رہے کہ شہر کی بلدیہ کے لئے یہی اہم ترین ذریعہ آمدنی ہے لیکن مارچ 2017 میں بلدیہ نے اپنے لئے سال بھر میں جائیدا ٹیکس کی وصولی کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس کی تکمیل کے لئے ابھی پانچ سو کروڑ روپئے کا خسارہ ہوا ہے اس لئے کہ پچھلے سال اپنے بجٹ میں بی بی ایم پی نے کل 2,600 کروڑ روپئے کے محصول کی وصولی کا ہدف طے کیا تھا، اس طرح اس بات کے اشارات مل رہے ہیں کہ حسب سابق بلدیہ کے نقصانات میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ واضح رہے کہ سال 2016-17 میں بی بی ایم پی نے کل 2,072 کروڑ روپئے وصول کئے تھے جبکہ اس کا ہدف اس سال کے لئے 2,300 کروڑ روپئے کا تھا۔البتہ بعض ذرائع سے جنہوں نے اس سال بی بی ایم پی کی ٹیکس وصولی کے بقایاجات کا تجزیہ کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس سال بی بی ایم پی کو جائیدا ٹیکس کے ضمن میں کل 2,265 کروڑ روپئے وصول کرنا باقی ہیں (جس میں پچھلے کئی سالوں کے بقایاجات بھی شامل ہیں)۔بی بی ایم پی کے ریوینیو محکمہ سے حاصل شدہ اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شہر میں تقریباً ایک لاکھ 79 ہزار جائیدایں ایسی ہیں جن کا محصول ابھی وصول نہیں کیا جا سکا ہے اور ان کے ٹیکس کی مقدار دس ہزار روپئے سے لے کر ایک کروڑ روپئے تک کی باقی ہے، اس طرح ان جائیداوں سے بی بی ایم پی کو باقی کل رقم کی مقدار 1,756 کروڑ روپئے ہوتی ہے، بی بی ایم پی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ’’اس کے علاوہ 105 جائیدایں ایسی ہیں جن کے ٹیکس بقایاجات ایک کروڑ روپئے سے بھی زیادہ کو پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح ان کی طرف سے کل 339 کروڑ روپئے وصول ہونا باقی ہیں ، مزید براں اونچی قیمت والی بعض جائیداوں کی طرف سے اضافی 170 کروڑ روپئے کی وصولی کی بھی امید ہے ۔بی بی ایم پی کے ٹوٹل اسٹیشن سروے کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ان جائیداوں کی قدر اندازی میں کوتاہی ہوئی ہے اور ان کی اصل قیمتوں کے مقابلہ میں کم قیمتوں پر قدر اندازی کی گئی ہے ،ان سب کو ملا کر بقایاجات کی رقم 2,265 کروڑ روپئے تک پہنچ جاتی ہے‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ خود بی بی ایم پی افسران کو اعتراف ہے کہ اصل بقایاجات کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، بی بی ایم پی کے ایک ریوینیو افسر نے بتایا کہ ’’چونکہ وہ جائیدایں جن کی نشاندہی ٹی ٹی ایس کے تحت کی گئی ہیں انہوں نے خود اپنے طور پر قدر اندازی کی ہے اور اس میں کوتاہیاں کی گئی ہیں ، انہیں جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا ، جو کہ اس مقدار کا دگنا ہوتا ہے جس سے اعراض کیا گیا ہے۔، اس طرح سود اور جرمانہ دونوں کو ملا کر اس ضمن میں آنے والی رقم کی مقدار چھ سو کروڑ کو پہنچ جاتی ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کوتاہیاں جن جائیداوں کی طرف سے کی گئی ہیں وہ زیادہ تر ٹیک پارک اور مال وغیرہ ہیں۔بی بی ایم پی کے ریوینیو افسران کے مطابق اس وقت جو رقم بی بی ایم پی کو وصول ہونا باقی ہے اس میں سے صرف چار سو تا پانچ سو کروڑ روپئے ہی اس سال کے بقایاجات میں شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ کی تمام باقی رقم پچھلے سالوں کے بقایا جات ہیں۔افسران کا کہنا ہے کہ ’’ہو سکتا ہے کہ بہت سارے افراد نے بینکوں میں چلان اور چیک وغیرہ جمع کر دئے ہوں، ان چالانوں اور چیک وغیرہ کے بھوننے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور چونکہ بینکوں کی چھٹیاں بھی جاری ہیں اس کا بھی اثر ہو سکتا ہے ۔ہمیں ایک واضح تصویر صرف اپریل کے پہلے ہفتہ کے اختتام ہی پر حاصل ہو سکتی ہے ، ہو سکتا ہے کہ اس وقت تک وصول کر دہ رقم کی مقدار ایک سو تا 150 کروڑ مزید بڑھ جائے‘‘۔بی بی ایم پی کے جائنٹ کمشنر (آمدنیات) ایم وینکٹاچلاپتی کا کہنا ہے کہ ’’جن کے محصول ابھی باقی ہیں، ہم ان کے غیر منقولہ جائیداوں کو ضبط کر نے کے سلسلہ میں وارنٹ جاری کریں گے، اگرچہ کہ ہم محصول کی وصولی کی پوری کوشش کریں گے لیکن یہ بات واضح ہے کہ فوری طور پر مکمل بقایاجات کی وصولی ناممکن ہوتی ہے‘‘۔


Share: